دارالعلوم سبیل الرشاد

آئی وی یف کا حکم

آئی وی یف کا حکم

سوال

بسم اللہ الرحمن الرحیم 
الاستفتاء
کیا آئی وی ایف (ان وٹرو فرٹیلائزیشن) شریعت میں جائز ہے ،بشرطیکہ نکاح کے تحت مرد اور عورت میاں بیوی ہوں۔ فتوی عنایت فرماکر مشکور ہوں۔ فقط والسلام دستخط مستفتیہ ڈاکٹر رضوانہ ،پرائم کیر ہاسپتال، نمبر 1/22 یم یم روڈ فریزر ٹائون ۔ بنگلور 560005 

جواب

آئی وی ایف بے شرمی اور بے حیائی کے افعال پرمشتمل ہے نیزاس میںبہت سے مفاسداور مضرات پائے جاتے ہیں ،یعنی اجنبی مرد یااجنبی عورت کے سامنے شرمگاہ کھولی جاتی ہے جوکہ صرف ضرورت واضطرار کے وقت جائز ہے،ضرورت کے سواعام حالات میں  ناجائز ہے،اور حصولِ اولاد کی یہ کوشش شرعاً ضرورت کے دائرہ میں نہیں آتی ، اس لئے اس کو اختیار کرنا بے غیرتی اور شریعت کے حدود سے تجاوز کرنا ہوگا، لہذا آئی وی یف کرانا ناجائز ہے ۔

ولایباح المس والنظر الی مابین السرۃ والرکبۃ إلا فی حالۃ الضرورۃ بأن کانت المرأۃ ختانۃ تختن النساء اوکانت تنظر الی الفرج لمعرفۃ البکارۃ اوکان فی موضع العورۃ قرح او جرح یحتاج الی التداوی وان کان لا یعرف ذلک الا الرجل یکشف ذلک الموضع الذی فیہ جرح وقرح فینظر الیہ ویغض البصر مااستطاع (تحفۃ الفقہاء ج ۳ ص ۳۴) ولا يجوز لها أن تنظر ما بين سرتها إلى الركبة إلا عند الضرورة بأن كانت قابلة فلا بأس لها أن تنظر إلى الفرج عند الولادة الخ(بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع ج ۴ ص ۲۹۹) فقط والله اعلم العبد صغیر احمد عفی عنه مورخه ۶ ذی حجه ۱۴۴۵ه

About the Author

You may also like these