دارالعلوم سبیل الرشاد

آن لائن ایجاب و قبول کے ذریعے نکاح کرنا کیسا ہے؟

آن لائن ایجاب و قبول کے ذریعے نکاح کرنا کیسا ہے؟

سوال

حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ رخسار بانو بنت سید ریاض کا خلع سات ماہ قبل ہوچکا ہے ، اب دوسرا رشتہ آیا ہے ،وہ لڑکا دبئی میں کسی کے ماتحت کام کررہا ہے ،اور اسے چھٹی بالکل نہیں مل رہی ہے ،تو ایسی صورت میں کیا آن لائن نکاح کرسکتے ہیں ؟ یا نکاح کی صحیح صورت کیا ہے ۔ازروئے شرع مطلع فرمائیں ۔عین نواز ش ہوگی ۔ فقط والسلام سید ابوبکر 
پتہ : مدرسۂ مہاجر نمبر 20 ،چکن ہلی کراس ویراٹ نگر،بیرور مین روڈ، بمن ہلی بنگلور

جواب

مجلسِ نکاح میں آن لائن ایجاب وقبول کرنے سے نکاح شرعامنعقدنہیں ہوگا ۔ لہٰذا مسئولہ صورت میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ لڑکا (سید رفاعت حسین عرف سید احتشام ) انڈیا میں کسی معتبر اور متعارف شخص کے نام اپنا تحریری وکالت نامہ بھیجے کہ میں رخسار بانو بنت سیدریاض سے نکاح کرنا چاہتا ہوں اور آپ کو میں اپنی جانب سے وکیل بناتا ہوں کہ آپ رخسار بانوکو میری طرف سے میرے نکاح میں قبول کرلیں، پھر نکاح کے موقع پر قاضی صاحب اس وکیل سے اس طرح ایجاب کریں گے کہ میں نے رخسار بانو کا نکاح سید رفاعت حسین سے کردیا ، کیا آپ نے سید رفاعت حسین کی طرف سے سید رفاعت حسین کے نکاح میں اس کو قبول کیا ۔ وہ وکیل قاضی صاحب کے سامنے یہ کہے کہ میں نے سید رفاعت حسین کے وکیل کی حیثیت سے سید رفاعت حسین کے نکاح میں رخسار بانوکو قبول کیا، اوراس ایجاب و قبول کو دونوں گواہ سنیں ۔ تو اس طرح نکاح بآسانی منعقد ہوجائے گا۔

وشرط حضور شاھدین حرین اوحروحرتین مکلفین سامعین قولھما معا الخ (ردالمحتار ج۳؛ص ۲۲)یصح التوکیل بالنکاح وان لم یحضرہ الشھود الخ (عالمگیری ج۱؛ ص۱۹۴)

About the Author

You may also like these