آٹو والوں کا دس ماہ کام کرکے بارہ مہینوں کا کرایہ لینا
سوال
حضرت امیر شریعت صاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ
السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ
ہمارے بچے اسکول جاتے ہیں جن کی آمد و رفت کی کوئی صورت اسکول کی طرف سے نہ رہنے کی وجہ سے ہم نے ان کے لئے ماہانہ کرایہ پر آٹو کا انتظام کر رکھا ہے۔پچھلے چند برس سے یوں ہوتا چلا آ رہا تھا کہ وہ دس ماہ اپنی خدمات پیش کرتے اور کرایہ حاصل کر لیتے، لیکن اس بار انہوں نے ایک فیس کارڈ مرتب کیا ہے جس میں بارہ مہینہ کی قید ہےاور کرایہ مکمل بار ہ ماہ کاوصول کرنے کا ذکر ہے ، جس کی ایک فوٹو کاپی برائے حوالہ استفتاء کے ساتھ لگائی جا رہی ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ ان دو مہینوں کا کرایہ (جن میں نہ تو ان کا آٹو ہمارے استعمال میں آتا ہے اور نہ وقت)وصول کرنا کیا شرعاً جائز ہے۔براہ ِمہربانی مدلل، مفصل، تشفی بخش جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
فقط والسلام شیخ ساجدنزدمدینہ مسجدبنگلور- ۴۸
نوٹ: واقعی صورت یہ ہے کہ یہ آٹووالے ماہانہ اجرت پر معاملہ طے کیے ہیں اب کارڈ بارہ ماہ کا بناکربارہ مہینہ کا کرایہ لینا چاہتے ہیں جس میں سے دس ماہ تو وہ اپنی خدمات پیش کرتے ہیں اور اجرت پاتے ہیں مابقیہ دوماہ میں وہ اپنا آٹو مستاجر کے لیے فارغ نہیں رکھتے ۔
نوٹ: واقعی صورت یہ ہے کہ یہ آٹووالے ماہانہ اجرت پر معاملہ طے کیے ہیں اب کارڈ بارہ ماہ کا بناکربارہ مہینہ کا کرایہ لینا چاہتے ہیں جس میں سے دس ماہ تو وہ اپنی خدمات پیش کرتے ہیں اور اجرت پاتے ہیں مابقیہ دوماہ میں وہ اپنا آٹو مستاجر کے لیے فارغ نہیں رکھتے ۔
جواب
صورت مسئولہ میں اگرآٹو کی انتظامیہ نے یہ ضابطہ بنالیا ہے کہ چھٹیوں کا بھی کرایہ لیا جائے گا اور مذکورطے شدہ معاہدہ کو اگر بچوں کے والدین مان کر اس کارڈ پر دستخط کرتے ہیں تو آٹو والوں کےلیے بارہ مہینوں (بشمول ایام ِرخصت )کاکرایہ لینا جائز ہوگا ۔
وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المسلمون على شروطهم (سنن ابوداؤد رقم الحدیث ۳۵۹۴) فقط والله اعلم العبد صغیراحمد عفی عنه مورخه 25 ذی الحجه 1445 هجری
