دارالعلوم سبیل الرشاد

خلع میں شوہر کے لئے مہر واپس لینے کی شرط لگانا جائز ہے

خلع میں شوہر کے لئے مہر واپس لینے کی شرط لگانا

سوال

بخدمت حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم
دارالافتاء دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں ، محمد مسعود ابن محمدعارف اللہ ،میرا نکاح عالیہ تبسم بنت محمدشفیع اللہ صاحب کے ساتھ 5 دسمبر 2021کو ہوا تھا۔ شادی کے بعد ہی میری بیوی کا رویہ میرے ساتھ درست نہیں، مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس کے پہلے ہی سے کسی دوسرے مرد سے تعلقات ہیں، اب میری بیوی مجھ سے خلع کا مطالبہ کررہی ہے ۔ شادی کے موقع پر میں نے مہر میں سونے کے کنگن دیے تھے ۔ مجھے مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا اس صورت میں جبکہ سارا قصور میری بیوی کا ہے میں خلع دینے کے لئے اپنے دیے ہوئے مہر (سونے کے کنگن) کی واپسی کی شرط لگا سکتا ہوں ۔ فتویٰ عنایت فرماکر شکریہ سے نوازیں ۔ فقط محمد مسعود ابن محمد عارف اللہ
پتہ:ملت نگر، ارہ للی روڈ ، کولار

جواب

خلع کی صورت میں شوہر کے ذمہ سے مہر ساقط ہوجاتاہے۔پس صورتِ مسئولہ میں خلع دینے کے لیے مہرکی واپسی کی شرط لگانا شوہر کے لیے جائز ہے ۔

ویسقط الخلع الخ کل حق الخ لکل منھما علی الآخر مما یتعلق بذلک النکاح الخ، الدر، قولہ کل  حق شمل المھر(ردالمحتار ج۳، ص ۴۵۲) اذاخالعھاعلی مہرھااوبعضہ وکان مقبوضافانھاتردہ (رد المحتار ج ۳ ص ۴۵۲) ان خالعھا علی مھرھا فان کانت المرأۃ مدخولا بھا وقد قبضت مھرھا یرجع الزوج علیھا بمھرھا الخ (عالمگیری ج۱، ص۴۸۹)

About the Author

You may also like these