دارالعلوم سبیل الرشاد

سمپ میں نجاست گرجائے تو کیا حکم؟

سمپ میں نجاست گرجائے تو کیا حکم؟

سوال

بخدمت حضرت مفتی صاحب 
دارالافتاء دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور
(رقبہ: 10X8فیٹ )ہمارا سمپ
  ٹووہیلرپارکنگ کی جگہ بنا ہوا ہے ۔ بسااوقات گاڑیوں کے ٹائر نجاست آلود ہوتے ہیں اور جب گاڑیاں دھوئی جاتی ہیں تو اس کا کچھ پانی سمپ میں بھی چلا جاتا ہے ۔ مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ ایسے سمپ کے پانی سے وضو وغسل کرنا جائز ہے یا نہیں ؟اصغر احمدبی ٹی یم لے آوٹ ۔ بنگلور

جواب

ماء قلیل نجاست گرتے ہی نجس ہوجائے گا برخلاف ماءِ کثیر کے کہ جب تک اس کا رنگ یا بو یا مزہ نہ بدل جائے وہ نجس نہ ہوگا ۔ماء کثیر کی تعیین وتحدید فقہائے کرامؒ نے دہ دردہ حوض سے کی ہے جوموجودہ دور میں دوسو پچیس مربع فٹ ہے۔ مذکور سمپ (جس کارقبہ ۸۰ فٹ ہے ) دہ دردہ حوض سے چھوٹا ہے اس لیے اس میں نجس پانی گرتے ہی ناپاک ہوجائے گا اگر چہ کہ اس کے اوصاف ( رنگ، بو،مزہ) نہ بدلیں ۔ اس ناپاک پانی سے وضو اور غسل کرناجائز نہیں ۔مذکورسمپ کوپاک کرنے کاطریقہ یہ ہے کہ جس قدر پانی اس میں ہے، اتنا پانی اوپر کی ٹینکی سے یا نل سے گرادیا جائے تو وہ پانی پاک ہوجائے گا ۔

الماء الراکد اذاکان کثیرا فھو بمنزلۃ الجاری لا یتنجس جمیعہ بوقوع النجاسۃ فی طرف منہ الا ان یتغیر لونہ او طعمہ اوریحہ الخ قال ابو سلیمان الجوزجانی ان کان عشرا فی عشر فھو مما لا یخلص وبہ اخذ عامۃ المشائخ رحمھم اللہ ھکذا فی المحیط (عالمگیری ج۱؛ ص۱۸) حوض صغير تنجس ماؤه فدخل الماء الطاهر فيه من جانب وسال ماء الحوض من جانب آخر كان الفقيه أبو جعفر رحمه الله يقول كما سال ماء الحوض من الجانب الآخر يحكم بطهارة الحوض وهو اختيار الصدر الشهيد رحمه الله كذا في المحيط وفي النوازل وبه نأخذ كذا في التتارخانية(عالمگیری ج۱؛ ص۱۷)(المحیط البرہانی ج۱ ص ۱۰۶)

About the Author

You may also like these