سمپ میں نجاست گرجائے تو کیا حکم؟
سوال
(رقبہ: 10X8فیٹ )ہمارا سمپ
جواب
ماء قلیل نجاست گرتے ہی نجس ہوجائے گا برخلاف ماءِ کثیر کے کہ جب تک اس کا رنگ یا بو یا مزہ نہ بدل جائے وہ نجس نہ ہوگا ۔ماء کثیر کی تعیین وتحدید فقہائے کرامؒ نے دہ دردہ حوض سے کی ہے جوموجودہ دور میں دوسو پچیس مربع فٹ ہے۔ مذکور سمپ (جس کارقبہ ۸۰ فٹ ہے ) دہ دردہ حوض سے چھوٹا ہے اس لیے اس میں نجس پانی گرتے ہی ناپاک ہوجائے گا اگر چہ کہ اس کے اوصاف ( رنگ، بو،مزہ) نہ بدلیں ۔ اس ناپاک پانی سے وضو اور غسل کرناجائز نہیں ۔مذکورسمپ کوپاک کرنے کاطریقہ یہ ہے کہ جس قدر پانی اس میں ہے، اتنا پانی اوپر کی ٹینکی سے یا نل سے گرادیا جائے تو وہ پانی پاک ہوجائے گا ۔
الماء الراکد اذاکان کثیرا فھو بمنزلۃ الجاری لا یتنجس جمیعہ بوقوع النجاسۃ فی طرف منہ الا ان یتغیر لونہ او طعمہ اوریحہ الخ قال ابو سلیمان الجوزجانی ان کان عشرا فی عشر فھو مما لا یخلص وبہ اخذ عامۃ المشائخ رحمھم اللہ ھکذا فی المحیط (عالمگیری ج۱؛ ص۱۸) حوض صغير تنجس ماؤه فدخل الماء الطاهر فيه من جانب وسال ماء الحوض من جانب آخر كان الفقيه أبو جعفر رحمه الله يقول كما سال ماء الحوض من الجانب الآخر يحكم بطهارة الحوض وهو اختيار الصدر الشهيد رحمه الله كذا في المحيط وفي النوازل وبه نأخذ كذا في التتارخانية(عالمگیری ج۱؛ ص۱۷)(المحیط البرہانی ج۱ ص ۱۰۶)
