لے پالک اپنے حقیقی والدین ہی کی اولاد شمار ہوگ
سوال
میری شادی ہوئے آ ٹھ سال گذر گئے، مگر اب تک بچے نہیں ہوئے ،تمام تر علاج معالجہ کرالئے مگر کوئی فائدہ نہیں ،ایسی صورت میں کسی یتیم بچے یا بچی کو پالنے کے لیے لے سکتا ہوں یا نہیں؟ اگر لے سکتا ہوں اس پر شرعی رہنمائی فرمائیں اگر نہیں لے سکتا تو اس کی بھی رہنمائی فرمائیں ،اگر کسی نوزائدہ بچے یا بچی کولیں، توکیا حکم ؟ بہر صورت اس کی پرورش میں لینے سے اس کے بڑے ہونے تک جو بھی ہو بالتفصیل جواب مرحمت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔
فقط والسلام منصور احمد چکبالاپور
جواب
یتیم کو گودلینااوراس کی پرورش کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ کارِ ثواب ہے ، اور باپ اپنی مرضی سے اپنابچہ یابچی کسی کو گود دیدے اور دوسرااسےلے پالک بنالے تو صحیح ہے، خریدوفروخت جائز نہیں ۔یتیم اور لے پالک کی تمام ضروریات کا انتظام کرنا،صحیح تعلیم و تربیت دینا اور محبت وشفقت کے ساتھ پیش آنا ضروری ہے ، لیکن وہ لے پالک بنانے والے کی حقیقی اولادنہیں بن جاتی،بلکہ اپنے حقیقی باپ ہی کی اولاد رہتی ہے، اس لئے ہردستاویز اور سرٹیفیکٹ میں حقیقی باپ کا نام ہی درج کرنا چاہیے ،لے پالک بچوں کاحقِ وراثت ان کے والدین کے ترکے سے ختم نہیں ہوتا،لڑکایا لڑکی کہیں بھی رہے،حقیقی ماں باپ کی جائداد میں انہیں حصہ ملے گا، لے پالک باپ یا ماں کی جائداد میں وہ حصہ دار نہیں ہوںگے۔لےپالک لڑکااگراجنبی ہو تواس کے بلوغ کے بعد اس سے پردہ کرنا لے پالک ماںاور اس کی لڑکیوں پر ضروری ہے،اگرلے پالک لڑکی اجنبی ہوتو اس سے پردہ کرنا لے پالک باپ اور اس کے لڑکوں پرلازم ہوگا۔ قرآن مجید میں ہے
:وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ ، ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ (الاحزاب،آیت :۴،۵)وما جعل ادعیا ء کم الخ ابناء کم فلا یثبت بالتبنی شیء من احکام البنوۃ من الارث وحرمۃ النکاح الخ (تفسیر مظھری ج۷، ص۲۹۲)
واللہ اعلم
العبد صغیر احمد عفی عنہ
۲۴ صفر ۱۴۴۳ھ
