دارالعلوم سبیل الرشاد

نماز اور خطبہ میں ایکو ساونڈ سسٹم کا استعمال

نماز اور خطبہ میں ایکو ساونڈ سسٹم کا استعمال

سوال

محترم و مکرم حضرت امیر شریعت مولانا صغیر احمد صاحب رشادی دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں حضراتِ مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ مساجد میں امام صاحبوں کا باز گشت یعنی ایکو سسٹم (بار بار رِپیٹ ہونے والی آواز )کے مائک سے نمازیں پڑھانا اور بیانات دینا کیا اِس طرح کرنے سے ہماری نمازیں درست ہو جائیں گی یا کچھ کمی رہ جائے گی۔اِس مائک میں امام کے ایک بار پڑھنے سے تین چار مرتبہ الفاظ رِپیٹ ہوتے ہیں ، کیوں کہ میں نے سنا تھا اس طرح پڑھنے پڑھانے سے نمازیں درست نہیں ہوتیں۔ لہٰذا آپ امیر شریعت دامت برکاتہم سے درخواست ہے کہ اس مسئلہ کو فتوے کے ذریعے آگاہ فرمائیں تاکہ ہماری نمازیں صحیح اوردرست ہوجائیں۔ فقط والسلام المستفتی عبد الرؤف نیشنل الیکٹرکل بی بی روڈ چکبالاپور ۔
 

جواب

نما زوں میں امام کی آواز اتنی ہونی چاہئے کہ مسجدکی نماز باجماعت میں شریک تمام مقتدیوں تک آوازپہنچ جائے،البتہ آواز مناسب انداز میں رکھی جائے ۔حد سے زیادہ نہ بڑھائی جائے۔بے ضرورت زیادہ آواز بلند کرنا پسندیدہ نہیں،چوں کہ ایکو سسٹم میں عموماً آواز ضرورت سے زیادہ اور مکرر ہوتی ہے لہذا ایکو استعمال کرنےسے بچنا چاہئے،اگر آوازمیں ایکو ہو تونمازکی قرأت میں غور وفکر کرنے کا موقع نہیں ملے گااور بیانات میں بھی مفہوم سمجھنے میں فرق ہوگا ۔

قولہ ویجب جھرالامام الخ والأولی ان لایجھد نفسہ بالجھر بل بقدر الطاقۃ لأن إسماع بعض القوم یکفی،بحرونھر،و المستحب ان یجھربحسب الجماعۃ فان زادفوق حاجۃ الجماعۃ فقد اساء الخ (حاشیۃالطحطاوی علی مراقی الفلاح ص:۲۵۳) واذا جھرالامام فوق حاجۃ الناس فقد اساء لأن الإمام انما یجھر لإسماع القوم لیدبروا فی قراءتہ لیحصل احضارالقلب (عالمگیری ج:۱؛ص:۷۲) صرح فی السراج بان الامام اذا جھر فوق الحاجۃ فقد اساء الخ(ردالمحتار ج: ۱؛ ص:۵۸۹)

About the Author

You may also like these