نماز اور خطبہ میں ایکو ساونڈ سسٹم کا استعمال
سوال
جواب
نما زوں میں امام کی آواز اتنی ہونی چاہئے کہ مسجدکی نماز باجماعت میں شریک تمام مقتدیوں تک آوازپہنچ جائے،البتہ آواز مناسب انداز میں رکھی جائے ۔حد سے زیادہ نہ بڑھائی جائے۔بے ضرورت زیادہ آواز بلند کرنا پسندیدہ نہیں،چوں کہ ایکو سسٹم میں عموماً آواز ضرورت سے زیادہ اور مکرر ہوتی ہے لہذا ایکو استعمال کرنےسے بچنا چاہئے،اگر آوازمیں ایکو ہو تونمازکی قرأت میں غور وفکر کرنے کا موقع نہیں ملے گااور بیانات میں بھی مفہوم سمجھنے میں فرق ہوگا ۔
قولہ ویجب جھرالامام الخ والأولی ان لایجھد نفسہ بالجھر بل بقدر الطاقۃ لأن إسماع بعض القوم یکفی،بحرونھر،و المستحب ان یجھربحسب الجماعۃ فان زادفوق حاجۃ الجماعۃ فقد اساء الخ (حاشیۃالطحطاوی علی مراقی الفلاح ص:۲۵۳) واذا جھرالامام فوق حاجۃ الناس فقد اساء لأن الإمام انما یجھر لإسماع القوم لیدبروا فی قراءتہ لیحصل احضارالقلب (عالمگیری ج:۱؛ص:۷۲) صرح فی السراج بان الامام اذا جھر فوق الحاجۃ فقد اساء الخ(ردالمحتار ج: ۱؛ ص:۵۸۹)