دارالعلوم سبیل الرشاد

وارثین کے لئے وصیت معتبر نہیں ، ہاں تمام وارثین راضی ہوں تو معتبر ہوگی

وارثین کے لئے وصیت معتبر نہیں ، ہاں تمام وارثین راضی ہوں تو معتبر ہوگی

سوال

بخدمت حضرت مفتی صاحب
دارالافتاء دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور
میری والدہ میمونہ کا انتقال چند سال پہلے ہوا۔ وارثین میں شوہر یعنی میرے والد،تین لڑکیاں (آمنہ، عائشہ ، خدیجہ)، ایک بھائی اورایک بہن ہے ۔ میری والدہ نے اپنے زیورات ہمارے مامو کے پاس رکھے تھے ، زیورات کے بارے میں وہ کہتی تھیں کہ یہ زیورات میرے بعد خدیجہ(چھوٹی بیٹی) کو دیے جائیں۔ اس لئے کہ ہمارے والد نے دوسری دو بیٹیوں کے لئے زیورات بنوائے تھے ۔ یہ وصیت میرے والد، خالہ اور آمنہ نے سنی ہے ۔ مذکورہ صورت میں مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ والدہ کے متروکہ زیورات کو حسب قانونِ شرع کس طرح تقسیم کیا جائے ؟ فقط (عائشہ فاروق) مدینہ نگر، بنگلور

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ میمونہ کے زیورات کو چھتیس حصو ں میں تقسیم کرکے شوہر کو نو حصے ، تین لڑکیوں ( آمنہ ، عائشہ ، خدیجہ) میں سے ہر ایک کو آٹھ حصے ، بھائی کو دو حصے اور بہن کو ایک حصہ دیاجائے ۔ وارث (لڑکی ) کے لئے وصیت کرنا شرعاً باطل اور غیر معتبر ہے ، اگر تمام وارثین برضاو رغبت اس وصیت کے مطابق عمل کرنے پر آمادہ ہوں تو مذکور وصیت کو نافذ کرنا جائز ہوگا۔

ولا تجوز الوصیۃ للوارث عندنا الا ان یجیزھا الورثۃ الخ (عالمگیری ج ۶ ، ص ۹۰)

About the Author

You may also like these