سوال
محترم ومکرم قابل احترام جناب مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عرض خدمت یہ ہے کہ ایک مسئلہ میں ہماری رہنمائی فرمائیں ،بڑی مہربانی ہوگی ۔
وہ یہ ہے کہ ہمارے والدسید ظہیر صاحب اپنی حیات ہی میں بیٹےاور بیٹیوں کو کچھ چیزیں تقسیم کردیے تھے اور ہماری والدہ کو بھی اپنی زندگی میں کچھ زمین دیدی تھی ،کچھ زمین اور کچھ چیزیں انتقال کے وقت ہمارے والد کی ملکیت میں بھی تھیں ۔سوال یہ ہے کہ ہمارےوالد نے اپنی حیات میںجن جن کو جوچیزیںدیدی تھیں ،کیا وہ بھی وراثت میں شمار کرکے سب کو تقسیم کریں یا انتقال کے وقت جوہمارے والدکی ملکیت میں تھیں ،وہ صرف وراثت میں تقسیم کی جائیں گی ۔ہمارے والد صاحب 2020 میں فوت ہوگئے ،وارثین میں ایک بیوی (ممتاز النساء) دولڑکے (سید عبد الرزاق عرف قدیر ،سید عمران ) اور دو لڑکیاں (زاہدہ سلطانہ ،صبیحہ سلطانہ ،ناظمہ سلطانہ،آصفہ سلطانہ ) ہیں ، بیوی کامہر دیدیا گیا۔مرحوم کے ذمے میں کوئی قرض نہیں اور ان کی کوئی وصیت بھی نہیں ۔ شریعت کے مطابق رہنمائی کریں ۔ عین نوازش ہوگی ۔فقط والسلام
سید عبدالرزاق عرف قدیر۔ چنتامنی ۔
جواب
صورت مسئولہ میں مرحوم سیدظہیر نے زندگی میں اپنی بیوی اور اولاد (لڑکےاورلڑکی) کو جو چیزیںدیں وہ ہبہ ہوکر ان کی ملک بن گئیں ، لہذا موہوبہ جائیداد مرحوم کےترکے میں شامل نہیں ہوگی۔ ہبہ کی وجہ سے حصۂ وراثت میں کمی نہیں ہوگی ۔بلکہ مرحوم کی موجود ہ جائیداد ہی اس کا ترکہ شمار ہوگی ۔ پس حقوقِ ضروریہ (اخراجات کفن دفن) کی ادائیگی کے بعدمرحوم سید ظہیر کے ترکے(موجودہ جائیداد)کو چونسٹھ حصوں میں تقسیم کرکےبیوی (ممتاز النساء) کو آٹھ حصے، دولڑکوں( سیدعبدالرزاق عرف قدیر، سید عمران) میں سے ہرایک کو چودہ حصےاور چار لڑکیوں( زاہدہ سلطانہ، صبیحہ سلطانہ، ناظمہ سلطانہ، آصفہ سلطانہ) میں سے ہرایک کو سات حصے دیے جائیں ۔
واللہ واعلم
العبد صغیر احمد
۲۰ شعبان ۱۴۴۴ھ
