مناسخہ تین بطن۔ لا ولد ہونے کی بناء پر بہن کو زیادہ حصہ نہیں ملتا
سوال
کیا فرماتے ہیں علماے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ میری والدہ حجن آمنہ بی صاحبہ کا انتقال 2007 میں ہوا ۔ مرحومہ کے وارثین میں شوہر یعنی ہمارے والد صاحب (جناب سی کے جعفر شریف صاحب ) ایک لڑکا عبدالکریم اور دو لڑکیاں(زہرہ جبین سلطانہ، محبوب منور سلطانہ) تھیں۔ پھر والدہ صاحبہ کے انتقال کے صرف دو ماہ دس دن بعد ہمارے بھائی جناب عبدالکریم صاحب بھی فوت ہوگئے ۔ مرحوم عبدالکریم صاحب کے وارثین میں بیوی (نسرین جان) ایک لڑکا (عبدالوہاب) اور دو لڑکیاں (ام سلمی، ام کلثوم ) اور ہمارے والد صاحب تھے، پھر ہمارے والدجناب سی کے جعفر شریف صاحب کا2017 میں انتقال ہوا۔ والد مرحوم کے وارثین میں ہم دو لڑکیاں (زہرہ جبین سلطانہ، محبوب منور سلطانہ) والد صاحب کے ایک بھائی سی کے سمیع اللہ دو بہنیں مسعودہ جان، سلیمہ جان اور مذکورہ بھتیجے بھتیجیاں ہیں۔ مذکورہ صورت میں مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ (۱)ہماری والدہ حجن آمنہ بی کے ترکے کو مذکورہ وارثین میں کس طرح تقسیم کیا جائے ؟ (۲) میری بہن زہرہ جبین سلطانہ لا ولد ہے ، کیا اس بنیاد پر اسے ترکے میں زیادہ حق ملتا ہے؟(۳) ہمارے ایک اور بھائی جناب قادر نواز صاحب بھی تھے ، جو والدہ سے پہلے ہی فوت ہوگئے ، معلوم یہ کرنا ہے کہ قادر نواز صاحب کی اولاد [ایک لڑکا عبدالرحمن ، ایک لڑکی جمیلہ نواز شریف]کو ہماری والدہ کے ترکے میں وراثت کے اعتبار سےحق ہے یا نہیں؟ فقط والسلام ، مستفتیہ : محبوب منور سلطانہ
نوٹ: قادر نواز کی اولاد میں ایک لڑکا عبدالرحمن اور لڑکی جمیلہ نواز ہے ۔
نوٹ: قادر نواز کی اولاد میں ایک لڑکا عبدالرحمن اور لڑکی جمیلہ نواز ہے ۔
جواب
(۱،۳) صورتِ مسئولہ میں مرحومہ آمنہ بی کے کل ترکے کو پانچ ہزار تین سو چوہتر حصوں میں تقسیم کیا جائے اور دو لڑکیوں (زہرہ جبین ، محبوب منور ) میں سے ہر ایک کو ایک ہزار پانچ سو اڑسٹھ حصے ، مرحوم لڑکے عبدالکریم کی بیوی (نسرین ) کو دو سو باون حصے ، لڑکے (عبدالوہاب) کو آٹھ سو چوہتر حصے ، دو لڑکیوں (ام سلمیٰ ، ام کلثوم ) میں سے ہر ایک کو چار سو سینتیس حصے اور مرحوم لڑکے قادر نواز کے لڑکے (عبدالرحمن ) کو ایک سو ساٹھ حصے اور لڑکی (جمیلہ نواز ) کو اسی حصے دیے جائیں ۔ (۲) مذکور بہن (زہرہ جبین سلطانہ) کو لا ولد ہونے کی بنیاد پر زیادہ حصہ نہیں ملےگا۔
واللہ اعلم
العبد صغیر احمد
۷ ؍ ربیع الاول ۱۴۴۴ھ
