مرد اپنے اعضاء تبدیل کرالے اور عورت بن جائے تو وہ صف میں کہاں کھڑا ہوگا؟
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص ہے جس کی عمر فی الحال تیس سال کے قریب ہے وہ پیدائشی طور پر ایک مرد تھا اس کا ختنہ بھی کیا گیا تھا لیکن سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں وہ مخنثوں کے گروپ میں چلاگیا وہ کہتا ہے کہ مجھے بچپن سے ہی عورتوں جیسی فیلنگ ہوتی تھی مرد ہونے کے باوجود مجھے عورتوں جیسے خیالات آتے تھے، میں چاہتا تھا کہ میرا بھی کوئی شوہر ہو اس لئے میں ہجڑوں میں شامل ہوگیا، بعد میں آپریشن کے ذریعے اس کے سینے میں عورتوں جیسا ابھار بھی پیدا کیا گیا اور مرد کی شرمگاہ ختم کرکے عورتوں جیسی شرمگاہ بنایا گیا، اب یہ شخص مردوں کی طرح پیشاب وغیرہ نہیں کرسکتا، اس نے اس لائن سے خوب نام اور پیسے کمائے۔
لیکن بعد میں اس پر خوف الہٰی کا غلبہ ہوا اور جماعت تبلیغ کی برکت سے اس شخص کو توبہ کی توفیق ہوئی اس نے عورتوں جیسے سب کام چھوڑ کر مردوں کا لباس پہنا جماعت میں وقت لگایا اور دین کی محنت سے جڑگیا، اس کی وجہ سے لوگ خوب جماعت میں نکلنے لگے مگر یہ شخص ابھی بھی کہتا ہے کہ مجھ میں عورتوں جیسا شوق ہے شوہر کی خواہش ہوتی ہے مگر میرے ساتھ زندگی بسر کرے گا کون اور میں خوف خدا سے اب کسی غلط راہ پر جانا نہیں چاہتا ۔
سوال یہ ہے کہ ایسا شخص مرد کے حکم میں ہے یا عورتوں کے حکم میں۔ اسے اگلی صف میں نماز پڑھنے کی گنجائش ہے یا نہیں یا یہ کہ مسجد میں آنا ہی مناسب نہیں کیوں کہ یہ حسین بھی ہے اور دلکش بھی اور ہجڑوں کی ساری صفات بھی پائی جاتی ہیں، واضح رہے کہ کہ یہ بچپن میں مرد ہی تھا، اب آپریشن کے ذریعے جنس تبدیل کیا گیا ہے ،اس شخص کو فی الحال مسجد میں آنے سے منع کیا گیا ہے مگر اس بات کا خوف ہے کہ اگر لوگ اس کے ساتھ بے اعتنائی برتیں گے تو ممکن ہےکہ پھر یہ غلط راہ پر چل پڑے، اس لیے قرآن و حدیث کاجو بھی حکم ہو، مکمل واضح اور مدلل ظاہر فرمائیں۔ پورا علاقہ آپ کے فتوے کا منتظر ہے ۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔ محمد سالم انظر قاسمی چنگیری کرناٹک
جواب
قرآن مجید اوراحادیث شریفہ میں ان مردوں اور عورتوں پر سخت لعنت آئی ہے جو ایک دوسرے کی مشابہت اختیار کرتے ہیںلہذاکسی مرد کا تبدیلِیٔ جنس کی کوشش کرنا قطعاً حرام اور قابلِ لعنت عمل ہےجولوگ اپنے جسموں کے مخصوص اعضاء میں غیرشرعی قطع وبرید کرتے ہیں ان کے مخصوص اعضاء میں ظاہری تبدیلی کے باوجود اصل جنس کے احکام نہیں بدلتے ، مکمل طور پر اعضاء جنسیہ میں حقیقتا تبدیلی ناممکن ہے؛یعنی مرد میں قوتِ ولادت ورضاعت پیدا ہو یا عورت میں قوتِ رجولیت پیدا ہوجائے، البتہ بعض آثار میں تبدیلی ہوسکتی ہےکہ عورت کے چہرے پر بال ظاہرہوں یا مرد کے سینے میں ابھار آجائے وغیرہ ، لہذا تبدیلی سے قبل جو مرد تھا اس پر مردکے احکام نافذہوں گے، اس لئے کہ بعض اعضاء کی تبدیلی ایسی نہیں جسے فقہی اصطلاح میں جنس کی تبدیلی سے تعبیر کیا جائے ،بلکہ اس کا اثر صرف اعضائے مخصوصہ کے مقام اور ان کی صلاحیت میں ظاہر ہوتا ہے جس کا نتیجہ غیر فطری طریقۂ شہوت رانی کے علاوہ کچھ نہیں ، اس لیے ایسی غیر فطری تبدیلی سے پیدائشی حیثیت اور اس کے احکام تبدیل نہیں ہوسکتے ۔انسانی جسم میں قطع وبرید سے جنس کی تبدیلی محض لفظی اور عرفی ہے ،فقہی نہیں،اس سے جنس کی تبدیلی کا حکم نہیں لگتا،لہذا مذکور شخص مرد ہے اور اسے مردوں کی صف میں کھڑا ہونا جائز ہے، انہیں مسجدسے روکنا جائز نہیں ۔
وَلَاُضِلَّنَّھُمْ وَلَاُمَنِّیَنَّھُمْ وَلَآمُرَنَّھُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّھُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللہِ وَمَنْ یَتَّخِذِ الشَّیْطَانَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَاناً مُّبِیْنًا(سورۃالنساء ۱۱۹ ) لعن رسول الله ﷺ المتشبهين من الرجال بالنساء والمتشبهات من النساء بالرجال، الخ عن ابن عباس قال لعن النبي ﷺ المخنثين من الرجال والمترجلات من النساء وقال أخرجوهم من بيوتكم (بخاری ۵۸۸۵، ۵۸۸۶) عن عبد الله ؓ لعن الله الواشمات والمستوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله ما لي لا ألعن من لعن رسول الله ﷺ وهو في كتاب الله (بخاری۵۹۴۸) لعن النبي ﷺ المخنثين الخ أي المتشبهين بالنساء من الرجال في الزي واللباس والخضاب والصوت والصورة والتكلم وسائر الحركات والسكنات الخ إذا لان وتكسر فهذا الفعل منهي لأنه تغيير لخلق اللہ (مرقاۃ المفاتیح ج۷ ص ۲۸۱)
عملية تبديل الجنس من الذكر إلى الأنثى والعكس هي عملية جراحية يتم فيها تغيير الأعضاء الظاهرية للذكر لتشبه الأعضاء الظاهرية للأنثى أو العكس حيث يقوم الجرَّاح إزاء الشخص المراد تبديل جنسه إن كان رجلا كامل الذكورة من الناحية الخلقية و الجنسیة بقطع القضيب والخصيتين وإحداث شق ببقايا كيس الصفن أشبه بفرج المرأة ويعطي هرمونات الأنوثة لينمو الصد رالخ وبتأثيرالهرمونات يتحول الصوت ليشبه صوت الأنثى، ويتغير توزيع الدهون في الجسم على هيئة توزيعها في جسم الأنثى وإن كان الشخص المراد تبديل جنسه امرأة كاملة الأنوثة،من الناحية الخلقية والجنسیة فإن الجراح يقوم باستئصال الثديين والرحم والمبيض ويقفل المهبل ويصنع لها قضيباً اصطناعياً يمكن أن ينتصب بواسطة تيار كهربائي من بطارية مزروعة في الفخذ عند الحاجة، وتعطي المرأة هرمونات الذكورة بكمية كبيرة لتغير الصوت إلى طابع الخشونة، ونتيجة لذلك ينبت شعر الوجه واللحية!! والتغيير هنا إنما هو تغيير ظاهري بحت في الأعضاء، لا يحصل معه أي تغيير في الوظائف فالرجل إذا تم تبديل بعض أعضائه إلى أعضاء الأنثى فإنه لا يمكن أن يحيض أو يحمل؛ لعدم وجود مبيض أو رحم، وبقطع ذكره وخصيته يكون قد فقد الإنجاب إلى الأبد. والمرأة إذا تم تبديل بعض أعضائها ذكراً في الظاهر، فإنها لا تقذف منياً، ولا يكون لها ولد من صلبها (مقالة للشیخ عمر عبداللہ حسن الشھابی: تبدیل الجنس ضرورة طبیّة أم انتکاسیة فطریة ج ۱ ص ۳۱)