قعدۂ اخیر چھوٹ جائے تو کیا حکم ہے؟
سوال
عصر کی نماز میں امام نے دو رکعت کےبعد قعدۂ اولیٰ نہیں کیا لیکن تیسری رکعت کے بعد یہ سمجھ کر کہ دو رکعت پڑھایا ہوں، قعدۂ اولیٰ کیا، مقتدی نے لقمہ دیا ، مگر امام نے لقمہ نہیں لیا، پھر چوتھی رکعت کے بعد قعدۂ اخیرہ نہیں کیا، بلکہ پانچویں رکعت مکمل کرکے قعدۂ اخیرہ کیا اور سجدۂ سہو بھی کیا، اور نماز مکمل کردی ۔ اس صورت میں نماز ادا ہوئی یا فاسد ہوئی؟ فقط محمد عائش اولڈ ہاسپٹل، یس بی آئی روڈ، محبوب نگر
جواب
صورت مسئولہ میں جب امام نے چوتھی رکعت میں قعدۂ اخیرہ کرنا بھول گیا اور پانچویں رکعت کا سجدہ کرکے نماز پوری کی تو قعدۂ اخیرہ فوت ہونے کی وجہ سے نماز فاسد ہوگئی ،اس کا اعادہ ضروری ہے۔
وإن سها عن القعدة الأخيرة حتى قام إلى الخامسة رجع إلى القعدة مالم يسجد الخ وإن قيد الخامسة بسجدة بطل فرضه عندنا(ہدایہ ج۱ ص ۱۴۲) ولو سها عن القعود الأخيركله أو بعضه عادالخ ما لم يقيدها بسجدة الخ وسجد للسہولتاخیر القعود وإن قيدها بسجدة عامدا أو ناسيا أو ساهيا أو مخطئا تحول فرضه نفلا الخ (الدرالمختار علی ہامش ردالمحتار ج۱ص ۸۶) رجل صلى الظهر خمسا الخ وإن لم يقعد على رأس الرابعة حتى قام إلى الخامسة إن تذكر قبل أن يقيد الخامسة بالسجدة عاد إلى القعدة الخ ويتشهد ويسلم ويسجد للسهوكذا في التتارخانية وإن قيد الخامسة بالسجدة فسد ظهره عندنا (عالمگیری ج۱؛ص۱۲۹)
واللہ اعلم
العبد صغیر احمد عفی عنہ
۱۸ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۳ھ
