دارالعلوم سبیل الرشاد

ڈاڑھی کو خضاب لگانا کیسا ہے؟

ڈاڑھی کو خضاب لگانا کیسا ہے؟

سوال

حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکا تہ
داڑھی کو کالی مہندی لگانا جائز ہے یا نہیں؟۔ جواب مر حمت فرمائیں عین نوازش ہو گی۔
فقط سمیر پاشا
پتہ: روبرو درگائی مسجد، مینا بازار، مدنی محلہ ، میسور 

جواب

سرخ مہندی کاخضاب بالاتفاق جائز ہے ،اور جائز مقاصد کے لئے( مثلاً جوان بیوی کے لئے تزئین یا میدانِ جہاد میں دشمنوں کو مرعوب کرنے کے لئے) سیاہ خضاب لگاناجائز ہے ۔ غلط اور ناجائز مقاصد کے لئے سیاہ خضاب بالاتفاق ناجائز ہے ، مثلاً سفید بالوں والے شخص کا لڑکی والوں کو دھوکہ دینے اور غلط فہمی میںمبتلا کرنے کے لئے سیاہ خضاب لگانا جائز نہیں۔ لیکن اگرخضاب لیپ کی شکل میں ہو ، جس سے بالوں پر تہہ جم جائے اور بال چھپ جائیں تو اسے لگانا جائز نہیں، خواہ کوئی رنگ ہو۔ اس لئے کہ اس صورت میں بالوں پر پانی نہ لگنے کی وجہ سے وضو و غسل نہیں ہوتا اورجب طہارت حاصل نہیں ہوگی تو نماز صحیح نہیں ہوگی۔

يستحب للرجل خضاب شعره ولحيته ولو في غير حرب في الأصح،الدر،قال في الذخيرة: أما الخضاب بالسواد للغزو، ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود بالاتفاق وإن ليزين نفسه للنساء فمكروه، وعليه عامة المشايخ، وبعضهم جوزه بلا كراهة روي عن أبي يوسف أنه قال: كما يعجبني أن تتزين لي يعجبها أن أتزين لها(ردالمحتار ج۶ ص ۴۲۲) اتفق المشائخ رحمہم اللہ تعالی ان الخضاب فی حق الرجال بالحمرۃ سنۃ الخ واما الخضاب بالسواد فمن فعل ذلک من الغزاۃ لیکون اھیب فی عین العدو فھو محمود منہ اتفق علیہ المشائخ رحمھم اللہ تعالیٰ ومن فعل ذلک لیزین نفسہ للنساء ولیحبب نفسہ الیھن فذلک مکروہ وعلیہ عامۃ المشائخ وبعضھم جوز ذلک من غیر کراھۃ وروی عن ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی انہ قال کما یعجبنی ان تتزین لی یعجبھا ان اتزین لھا(عالمگیری ج۵، ص۳۵۹) وروی عن ابی حنیفۃ ومحمد رحمھما اللہ تعالیٰ انہ یجب امرار الماء علی ظاھر اللحیۃ وھو الاصح الخ (عالمگیری ج۱، ص۴)
واللہ اعلم
العبد صغیر احمد عفی عنہ
۷ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۳ھ

About the Author

You may also like these